عقل کا مقام، ایمانیات اور اسلامی علوم کی کلیت: ایک تجزیاتی مطالعہ
عقل کا مقام، ایمانیات اور اسلامی علوم کی کلیت: ایک تجزیاتی مطالعہ
۱. عقل کا تصور اور جدید مغربی تہذیب کا دعویٰ
انسانی فکر میں عقل کا مقام ہمیشہ سے ایک بنیادی موضوع رہا ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے اسی بنیاد پر عیسائیت کو رد کیا کہ انسانی مسائل (خواہ وہ دنیاوی ہوں یا اخروی) صرف عقل کی مدد سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ خدا کی دو کتابیں ہیں: ایک “کتابِ فطرت” اور دوسری “بائبل”۔ چونکہ بائبل کی تعبیر و تشریح میں یکسوئی ممکن نہ ہو سکی، اس لیے سائنٹیفک میتھڈ (Scientific Method) کے ذریعے ایک ایسا معروضی منہاج تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جو مذہبی اختلافات سے ماورا حل پیش کر سکے۔
تاہم، بیسویں صدی میں خود مغرب کے اندر سے اس تصورِ عقل پر بھرپور تنقید ابھری۔ کانٹ سے لے کر نطشے، ہائیڈیگر اور وٹگنسٹائن تک، اس تنقید کا حاصل یہ ہے کہ عقل کی مدد سے خدا یا تصورِ حیات کے بارے میں دی جانے والی دلیلیں دراصل انسان کے پس منظر کے مفروضات (Background Assumptions) پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہ سیاق (Context) تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی عناصر سے تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی دلیل کی “اپیل” کا بڑا حصہ ان مفروضات یا ایمانیات پر مبنی ہوتا ہے جنہیں ہم بلا چون و چرا تسلیم کر لیتے ہیں (Taken-for-granted assumptions)۔ چنانچہ عقل کی بنیاد پر ایمانیات کا مسئلہ اس لیے حل نہیں کیا جا سکتا کہ عقل کی اپنی بنیادیں بھی ایمانیات ہی پر استوار ہیں.
یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ یہ ہے کہ عقل کا یہ تنقیدی تصور ارسطو کے ہاں اس طرح موجود نہیں تھا۔ لیکن جب ہم اسلامی روایت میں ایک مکتبِ فکر کی دوسرے پر تنقید دیکھتے ہیں، تو وہاں ہمیں جدید مغربی تنقید کے متوازی (Parallel) رنگ نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر اشاعرہ نے جب “حسن و قبح عقلی” کے مسئلے پر بحث کی اور عقل کی اس صلاحیت کی نفی کی کہ وہ بذاتِ خود اشیاء کی اخلاقی قدر (اچھائی یا برائی) متعین کر سکے، تو یہ دراصل عقل کی اسی خود مختاری پر ضرب تھی جس پر صدیوں بعد مغربی فلاسفہ نے کلام کیا۔ ارسطاطیلیسی فریم ورک کے غلبے کی وجہ سے شاید یہ باریکیاں اس وقت اس طرح ابھر کر سامنے نہ آئیں، لیکن امام ابنِ تیمیہ کی تنقید ہو یا اشاعرہ کے مباحث، وہاں عقل کی حدود متعین کرنے کا وہی رنگ ملتا ہے جو جدید تنقیدی فلسفے کا خاصہ ہے۔
۲. صوری عقل بمقابلہ جوہری عقل
عقل کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے “صوری عقل” (Formal Reason) اور “جوہری عقل” (Substantial Reason) میں فرق کرنا ناگزیر ہے۔ صوری عقل کا تعلق محض منطقی ڈھانچے اور طریقہ کار سے ہے (مثلاً دو جمع دو چار ہیں یا کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ کیا ہے)۔ اس سطح پر عموماً لوگوں کے درمیان اختلاف ناقابل حل نہیں ہوتا۔
حقیقی اختلافات جوہری یا سبسٹینشل عقل کے مقام پر پیدا ہوتے ہیں، اور جوہری عقل کے تصورات ہمیشہ ایمانیات سے جنم لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک مسلم متکلم جب اللہ کے حق میں دلیل دیتا ہے تو وہ مسلمان معاشرے اور ایمان سے منور دل کی وجہ سے اس دلیل کو مقنع (Compelling) پاتا ہے۔ وہی دلیل کسی دوسرے تہذیبی یا ایمانی سیاق میں شاید وہ اثر نہ رکھے۔ اگرچہ “فطرت” اور “الست بربکم” کی شہادت انسانی وجود میں موجود ہے، لیکن معاشرتی اثرات کی وجہ سے یہ مسخ بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے ہدایتِ الٰہی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کوئی بھی عقلی نظر (Inquiry) کسی نیوٹرل جگہ پر نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ ایمان کے کسی نہ کسی سیاق میں ہوتی ہے۔
۳. علمِ کلام: وظائف اور حدود
علمِ کلام محض فلسفہ نہیں ہے، بلکہ اس کے مخصوص مثبت و منفی وظائف ہیں۔ اس کا منفی پہلو (Negative function) اسلام کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا تدارک ہے، جبکہ مثبت پہلو عقلی مباحث کے تناظر میں اسلامی عقائد کا دفاع کرنا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا غلط ہے کہ علمِ کلام کی یہ توجیہات خود مکتفی (Self-sufficient) و دائمی ہیں۔ ہر متکلم اپنے مخصوص علمی و ایمانی تناظر میں کام کرتا ہے۔
کسی بھی امام یا متکلم کے تصورِ عقل کو سمجھنے کے لیے ان کے پورے کام کا احاطہ ضروری ہے۔ مثلاً امام رازی کے تصورِ عقل کو محض ان کی کلامی کتب سے نہیں بلکہ مثلاً “تفسیرِ کبیر” کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح امام غزالی کے لیے “احیاء العلوم” بنیادی ماخذ ہے۔ کسی بھی امام کے ہاں دو قسم کے علوم ہوتے ہیں: ایک “دینی علم” اور دوسرا “وسائل کا علم”۔ وسائل کا علم ہمیشہ اپنے وقت کی علمی پونجی اور مخصوص روایت تک محدود ہوتا ہے، جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی یا گہرائی پیدا ہو سکتی ہے۔
۴. جدید سیکولرزم اور علوم کی تقسیمِ کار
عصرِ حاضر میں سیکولرزم کی ایک خطرناک شکل یہ ہے کہ اسلامی علوم کو ایک دوسرے سے کاٹ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اسلامی تاریخ میں جب اسلام بطورِ تہذیب غالب تھا، تو علمِ کلام کبھی بھی دیگر علوم سے الگ نہیں تھا۔ فقہ، حدیث، تفسیر اور کلام ایک ہی مجموعی سوتے سے جڑے ہوئے تھے اور ان کے درمیان ایک نامیاتی (Organic) تعلق قائم تھا۔
سیکولرزم کا آغاز ہی اس وقت ہوتا ہے جب مختلف علمی ڈسپلنز اپنے مجموعی سوتے سے کٹ کر “سیلف سفیشنسی” (خود مکتفی ہونے) کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ یورپ میں اکنامکس بطورِ علم اس لیے ایجاد ہوئی کیونکہ معاشی مسائل کو عیسائی فقہ اور مجموعی عقائد کے تناظر سے کاٹ دیا گیا۔ آج “اسلامی معاشیات” یا “اسلامی سیاسیات” پر ہماری تنقید یہی ہے کہ یہ علوم معاشی و سیاسی مسائل کو فقہ کے ابواب کے اندر سمجھنے کے بجائے ایک الگ اور خود مختار منہاج پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی سیکولرزم ہی کی ایک صورت ہے۔
یہی صورتحال موجودہ دور میں علمِ کلام کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ علمِ کلام کو دوسرے اسلامی علوم (فقہ، حدیث، تفسیر) سے جدا کر کے ایک “سیلف سفیشنٹ” ڈسپلن بنا دیا گیا ہے، اور بعض جگہوں پر اسے دیگر علوم پر ایک غیر متعلقہ “حاکم” کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ یہ ڈسپلنز کی علیحدگی (Separation of disciplines) دراصل اسی سیکولر طرزِ فکر کا شاخسانہ ہے جس میں علم کا تعلق اپنی اصل (یعنی وحی اور کلیتِ دین) سے کمزور پڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے بڑے متکلمین دراصل بڑے مفسر، محدث اور فقیہ بھی تھے۔ علمِ کلام کو ان تمام علوم کی کلیت سے جدا کر کے محض ایک ڈسپلن کے طور پر برتنا ایک علمی فساد ہے، جو اس کی روح کو فنا کر دیتا ہے۔

