نظریاتی تصادم: ’نو-حلاقی‘ مثالیت پرستی اسلامی انقلاب کی راہ میں کیونکر رکاوٹ ہے؟
محترم سید خالد جامعی صاحب اور علی محمد رضوی کے ریاست کے بارے میں نقطہ ہائے نظر کا تقابلی مطالعہ ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے عمومی فکری حلقے کے ایک اندر جاری ایک اہم بحث کا پتہ دیتا ہے۔ اگرچہ دونوں حضرات جدید ریاست کا تنقیدی مطالعہ کررہے ہیں، لیکن ریاست کے تصور، اسکے مفہوم، تاریخی تسلسل، اصطلاحی جواز اور اسلامی سیاسی فکر کے اندر اس کے مقام پر ان دونوں حضرات کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔
۱۔ ’ریاست‘ کی حقیقت
علامہ سید خالد جامعی کا موقف یہ ہے کہ ’ریاست‘ (State) خالصتاً جدیدیت کی تخلیق ہے جو ۱۷ ویں یا ۱۸ ویں صدی کے آس پاس ابھری۔ وہ ڈاکٹر انصاری صاحب کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلافت، امارت اور بادشاہت جیسی اصطلاحات ’ریاست‘ کے جدید تصور کے ہم معنی یا ہم پلہ نہیں ہیں۔ علامہ خالد جامعی کے نزدیک ریاست جدیدیت کی ایجاد ہے (وائل حلاق کا نکتہ)، جسے سرمایہ داری اور انسانی حقوق کے تصورات کی طرح مسترد کرنا ضروری ہے۔
دوسری طرف، علی محمد رضوی کا استدلال یہ ہے کہ اگرچہ ’ریاست‘ کی اصطلاح جدید تناظر میں استعمال ہوتی ہے، مرکزی سیاسی اتھارٹی (سلطان ) کا تصور اسلامی فکر کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ وہ ’احکام سلطانیہ‘ اور شاہ ولی اللہ کی اصطلاح ’ریاستِ عامہ‘ (جو حضرت شاہ صاحب نے خلافت کی تعریف میں استعمال کی ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلامی سیاسی فکر میں منظم حاکمیت کے لیے ریاست بطور اسلامی اصطلاح پہلے سے موجود ہے۔ لہٰذا، وہ اس مطالبے کو مسترد کرتے ہیں کہ ’ریاست‘ کی اصطلاح کو ترک کر دیا جائے کیونکہ اسلامی تاریخ سیاسی تحکم کا اپنا ایک مخصوص تصور رکھتی ہے جو جدید یورپی علمیات (Episteme) سے پہلے کا قصہ ہے۔
۲۔ فوکالٹ کا جھانسہ
سید خالد جامعی کا نقطہ نظر ’تاریخی انقطاع‘ (Historical Rupture) پر زور دیتا ہے۔ وہ ریاست کے ظہور کو یورپ کی مخصوص فکری ترقی سے جوڑتے ہوئے اسے ایک ایسی منفرد تشکیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی روح اور ساخت دونوں لحاظ سے سرمایہ کی منطق (Logic of Capital) اور جدیدیت کے منصوبے سے جڑی ہوئی ہے۔ سیدِ محترم کے نزدیک ریاست کوئی ’غیر جانبدار‘ تصور نہیں ہے بلکہ سیاسی تنظیم کی ایک مخصوص قسم ہے۔ ان کے نزدیک خلافت کو ’ریاست‘ کہنا ایک ’تصوراتی مغالطہ‘ (Category Mistake) ہے جو اس کی اسلامی بنیادوں کو دھندلا دیتا ہے۔
علی محمد رضوی، اس کے برعکس، تصورات میں اندرونی تفریق و امتیاز کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ ’ریاست‘ کو ایک ’جنس‘ (Genus) کے طور پر دیکھتے ہیں (ایک وسیع تصور جس کی تعریف مرکزی اتھارٹی اور حاکمیت ہے۔ اس لحاظ سے خلافت و امارت اسلامیہ وغیرہ ریاست کی مختلف انواع قرار پائیں گی) جس کے اندر مختلف ’انواع‘ (Species) موجود ہو سکتی ہیں۔ یہ فریم ورک تاریخی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تصورات کے اندر جوہری فرق کو تسلیم کرنے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی تحریک کے مقاصد کی نئے حالات میں اجتہادی تعبیرِ نو ممکن ہو پاتی ہے۔ اصل کام ریاست کا کلی خاتمہ نہیں، بلکہ غیر اسلامی ریاستوں کو منتشر کرنا، ان کی جگہ اسلامی ریاستوں کو قائم کرنا اور سیاسی تحکم کو ’حاکمیتِ الہٰی‘ کے تحت نئے سرے سے منظم کرنا ہے۔ علی محمد کے نزدیک ریاست ایک ایسا تصور ہے جس میں مختلف اقدار سموئی جا سکتی ہیں؛ یہ لازمی طور پر سیکولر تصور نہیں ہے۔ اسلامی ریاست وہ ریاست ہے جس کا وجۂ وجود اللہ کی حاکمیت کا قیام و نفاذ ہے۔
۳۔ ریاست بمقابلہ حکومت: مستقل اور عارضی ڈھانچے
علامہ خالد جامعی حکومت (عارضی) اور ریاست (مستقل اور ساختی) کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست سے مراد طاقت کے وہ مستقل ادارے ہیں—فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی—جو انتخابی تبدیلی کے باوجود سرمایہ داری کے غلبے کو برقرار رکھتے ہیں۔
علی محمد رضوی اس فرق کو مزید واضح کرتے ہوئے حکومت کے دو الگ مفہوم بیان کرتے ہیں: عارضی انتظامیہ اور مستقل حکومت جو ہر منظم سماجی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ مزید برآں وہ ریاست کے تصور کے اندر ایک اہم تجزیاتی تہہ متعارف کرواتے ہیں (جو ان کے سابقہ علمی کام کا حصہ ہے)۔ وہ ’ریاست‘ کے درج ذیل دو معانی میں فرق کرتے ہیں:
طاقت کے مستقل ادارے (Permanent Apparatuses of Power): وہ ادارہ جاتی اوزار اور ڈھانچے جو سماجی نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
حکمرانی کا سیاسی تعقل (Political Rationality of Governance): وہ بنیادی منطق، اقدار اور مقاصد جو ان اوزاروں اور ڈھانچوں کی سمت متعین کرتے ہیں اور انہیں جواز فراہم کرتے ہیں۔
یہ فرق انقلابی نظریے کے لیے ایک کلیدی نکتہ ہے۔ انقلاب کا مطلب محض اداروں پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ اس ’عقلیت‘ (Rationality) کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے—یعنی ’عبدیت‘ بمقابلہ ’خود مختاری‘ (Autonomy) کی منطق—جو ان اداروں کو چلاتی ہے اور انہیں جواز فراہم کرتی ہے۔ اس تبدیلی کے بغیر تبدیلی محض سطحی ہی رہے گی۔
۴۔ وائل حلاق بمقابلہ اسلامی انقلاب
وائل حلاق اپنی کتاب ’نا ممکن ریاست‘ (The Impossible State) میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ریاست شریعت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ ’مطلق حاکمیت‘ کا دعویٰ کرتی ہے، جو اسلام میں صرف اللہ کا حق ہے۔ علامہ خالد جامعی کا موقف اسی نظریے کے قریب ہے کہ ریاست بنیادی طور پر ایک اسلام دشمن ڈھانچہ ہے جسے اسلامی نہیں بنایا جا سکتا۔
علی محمد رضوی، دوسری طرف، ڈاکٹر انصاری صاحب کے ساتھ مل کر تیار کی گئی تنقید کی روشنی میں اس نتیجے کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ حلاق کے ’ناممکنات‘ کے نظریے کو ایک اٹل حقیقت کے بجائے ایک ’تاریخی طور پر عارضی وقوعہ‘ (Historically Contingent Problem) قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں، اسلامی انقلاب کا مقصد ایک نئی ریاست کا قیام ہے جس کا بنیادی تعقل خدا تعالی کی حاکمیت مطلقہ کا اقرار اور اس کا قیام ہے۔ اسلامی ریاست قوت کی ایسی ترکیز کا نام ہے جس کا تعقل اور بنیاد اسلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم (وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ الآية) کی عملی تعبیر ہے ۔ اسلامی ریاست معاشرے کے اندر نئے انتظامی اداروں کی تعمیر سے برآمد ہوتی ہے۔ یہ انتظامی ادارے اللہ کی حاکمیت کے تابع ہوتے ہیں اور ریاست اس طرح سرمائے کے آلے کے بجائے ’دین‘ کے غلبے کا آلہ بن جاتی ہے (. . . حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ الآية)۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست مجردا اسلامی ہو سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست کی بنیادی عقلیت کو نئے سرے سے اس طرح تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ منظم قوت کے ایسے مراکز وجود میں آئیں جن کاوجۂ وجود و جواز اعلاء کلمۃ اللہ اور صرف اعلاء کلمۃ اللہ ہو۔
۵۔ دو مختلف منہاج
سید خالد جامعی کا منہاج فوکالٹ کے جینیالوجکل منہج کی ایک مخصوص تعبیر نظر آتا ہے۔ اس کا مقصد ریاست کی تاریخی جڑوں کو سرمایہ داری اور جدید حکمرانی کے ایک وسیع تر نظام کے طور پر بے نقاب کرنا ہے تاکہ اس کی غیر جانبداری کے دعووں کو باطل کیا جا سکے۔
علی محمد رضوی، اس کے برعکس امام غزالی کے تہافتی منہاج کے پیروکار ہیں ان کا زور اصطلاحات کو ان کی مختلف تہوں—اصطلاحی، ادارہ جاتی اور عقلی—میں تقسیم کرنے پر ہے تاکہ ان کے فنکشنل اور اخلاقی جوہر میں تفریق کی جا سکے۔ اس منہاج کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ یہ نظاماتی تہافت کے بعد ایک نظام کے مختلف اجزاء کو اس کے نظام کے کل سے الگ کر کے اسلامی تناظر میں ان کے ممکنہ استعمال میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا ہے بلکہ اسے ضروری سمجھتا ہے۔ یہ منہاج ایک تعمیری منصوبے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے: یعنی ایک ایسے اسلامی سیاسی نظریے کا فروغ جو یہ سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ سرمایہ دارانہ ریاست کو کس طرح منتشر و تتر بتر کیا جاسکتا ہے اور اسکی جگہ کس طرح اسلامی ریاست کو قائم کیا جاسکتا ہے۔
خلاصہ: علامہ خالد جامعی ریاست کو فطری طور پر ایک دشمن ڈھانچے کے طور پر دیکھتے ہیں جو جدیدیت کی ایجاد ہے اور لازماً’سرمایے کی منطق‘ کی خدمت کرتی ہے۔ اس کے برعکس، علی محمد رضوی اسے ایک کثیر الجہتی فلسفیانہ اور انتظامی تصور قرار دیتے ہیں - جسے تنقیدی طور پر بازیافت کرنا، ازسرِ نو متعین کرنا اور حاکمیتِ الہٰی کے تابع کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ اسلامی انقلاب کے لیے ضروری ہے۔
لہٰذا یہ اختلاف محض اصطلاحی تنازعہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جدید دنیا میں اسلامی انقلابی سیاست کے ممکن ہونے یا نہ ہونے سے ہے۔

