شنقیطی محظرہ کے بارے میں کچھ باتیں
یہ جو موریتانیا ہے، جسے شنقیط بھی کہا جاتا ہے، وہاں کا قدیم “محظرہ” نظام دراصل کچھ ویسا ہی ہے جیسے برصغیر میں مدرسوں کی ابتدائی اور اصل شکل ہوا کرتی تھی۔ جس طرح ہمارے ہاں درسِ نظامی ایک متعین نصاب کی حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح وہاں بھی باقاعدہ مقررات اور متون ہیں جو طالبِ علموں کو پڑھائے جاتے ہیں۔ البتہ ان لوگوں کا علمی معیار بہت بلند ہے۔
میں نے خود جب ان کے ہاں پڑھنا شروع کیا تو باوجود اس کے کہ مثلاً نحو وغیرہ میں پہلے سے خاصی تعلیم حاصل کر چکا تھا - بچپن میں پاکستان میں شرح جامی تک پڑھی تھی - پھر بھی میں نے وہاں جا کر ابتدا ہی سے آغاز کیا۔ مثلاً وہ آجرومیہ پڑھاتے ہیں، جو انکے ہاں ایک بالکل ابتدائی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جو نحو میر وغیرہ پڑھی جاتی تھی، یہ اس کے قریب کی سطح کی کتاب ہے۔ لیکن ان کے ہاں اصل چیز صرف متن نہیں، بلکہ متن کے ساتھ نظم، حفظ، اور استاد کی تشریح ہے۔
ان کے اکثر متون منظوم ہوتے ہیں، اور طلبہ انہیں حفظ بھی کرتے ہیں۔ تاہم اصل علم استاد کی شرح اور توضیح میں ہوتا ہے۔ وہاں کے اساتذہ کا حال یہ ہے کہ پورا علمی سرمایہ انہیں تقریباً حفظ ہوتا ہے، اور فہم و ادراک بھی غیرمعمولی درجے کا ہوتا ہے۔ عربی زبان و علوم میں اس درجے کے لوگ آج دنیا میں بہت کم ملتے ہیں۔
اگرچہ موریتانیا کوئی بہت ترقی یافتہ یا سہل ملک نہیں، بلکہ زندگی کے لحاظ سے ایک مشکل علاقہ ہے، لیکن جو شخص واقعی علم حاصل کرنا چاہتا ہو، اسے وہاں جانا چاہیے۔ البتہ اب اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے آن لائن نظام بھی قائم کر لیے ہیں، اس لیے اب دنیا میں کہیں سے بھی ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا اصول یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی کتاب پڑھائی جاتی ہے، اور جب تک طالبِ علم اس متن کو اچھی طرح سمجھ نہ لے، یاد نہ کر لے، اور اس پر قدرت حاصل نہ کر لے، تب تک اگلی کتاب کی طرف نہیں بڑھتے۔
یہ نظام بنیادی طور پر آزاد ہوتا ہے، بالکل ہمارے پرانے علمی نظام کی طرح۔ نہ کوئی رسمی کلاسوں کی پابندی، نہ ڈگریوں کا تصور، نہ امتحانات کا وہ ڈھانچہ۔ البتہ اب جو آن لائن پروگرام وغیرہ ہیں، ان میں مراجعت کے لیے کچھ امتحانات رکھ دیے گئے ہیں۔ لیکن اصل نظام یہ ہے کہ طالبِ علم خود تیاری کرتا ہے، اپنے شیخ کے پاس جا کر متن کی تصحیح کرواتا ہے، پھر واپس جا کر اسے یاد کرتا ہے۔ جب حفظ مکمل ہو جاتا ہے تو دوبارہ استاد کے پاس آتا ہے، پھر استاد اس کی شرح کرتا ہے۔ اس کے بعد طلبہ آپس میں اس کی تکرار اور مباحثہ کرتے ہیں، جسے وہ “دول” کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی پرانے زمانے میں کچھ ایسا ہی طریقہ ہوتا تھا۔
میں نے خود بھی اسی انداز سے تعلیم حاصل کی ہے۔ باقاعدہ کسی مدرسے میں زیادہ عرصہ نہیں پڑھا، پاکستان میں بھی زیادہ تر اساتذہ سے انفرادی طور پر پڑھا ہے۔ وہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ کبھی ایک فرد پڑھ رہا ہوتا ہے تو استاد اسے بھی پڑھا دیتے ہیں، اور کبھی چند افراد مل کر ایک کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس اجتماعی حلقے کو وہ “دُوَل” کہتے ہیں۔
میرے نزدیک تو ہمارے ہاں جو درسِ نظامی سے فارغ ہو چکا ہو، اس کے لیے بھی یہ بہت مفید ہے کہ وہاں جا کر ابتدا سے پڑھے۔ البتہ ہر شخص کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔ میں نے خود اس میں ابتدا سے آغاز کیا، اور پچھلے تقریباً دس سال سے پڑھ رہا ہوں۔ مکمل تو ابھی بھی نہیں ہوا، لیکن الحمدللہ ان کے اکثر اہم متون پڑھ چکا ہوں۔
ادب میں تقریباً ساری کتابیں پڑھ لی ہیں۔ حماسہ تو ہم نے پہلے بھی پڑھی تھی، لیکن وہاں دوبارہ بھی پڑھی۔ دیوان غیلان وغیرہ ابھی تک نہیں پڑھے ہیں، البتہ اس سے متعلق دوسری چیزیں پڑھی ہیں۔ بلاغت میں ابھی عقود الجمان باقی ہے۔ تصریف میں ساری کتابیں پڑھ لی ہیں، اور نحو میں بھی مکمل نصاب پڑھ لیا ہے۔ حدیث میں بھی وہاں کی مقررہ کتابیں پڑھ لی ہیں۔
سلوک و آداب میں ابھی اشراق القرار نہیں پڑھی۔ مصطلح الحدیث میں الفیہ عراقی ابھی نہیں پڑھی، لیکن نخبۃ الفکر، طلعت الانوار، اور اس کے علاوہ بھی کئی کتابیں پڑھی ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں ہوا۔
علومِ قرآن میں مقدمۂ تفسیر پڑھا ہے (ابن جوزی کا تفسیر میں مقدمہ بھی پڑھا ہے)، تحفۃ الاریب پڑھی ہے، نظم القنطرہ پڑھی ہے۔ باقی بعض کتابیں، خصوصاً قراءات وغیرہ سے متعلق، ابھی نہیں پڑھیں۔ تجوید میں جزریہ پڑھی ہے۔ اور اس سے پہلے کے درجے میں جو کتاب وہ پڑھاتے ہیں، ہم نے وہ بھی پڑھی ہے جسے غالباً تحفۃ الغلمان کہتے ہیں۔
سیرتِ نبویہ کی تقریباً ساری مقررہ کتابیں پڑھ لی ہیں۔ فقہِ مالکی میں اخضری، ابن عاشر، اور الرسالہ پڑھی ہیں، جبکہ کفاف اور مختصر خلیل ابھی باقی ہیں۔ منطق میں سلم پڑھی ہے۔ عروض و قوافی میں مذکرۃ العروض پڑھی ہے۔
عقیدہ میں مجمل اعتقاد السلف بھی پڑھا ہے اور مقدمۂ رسالہ بھی۔ ہمارے اساتذہ ویسے ایک قسم کے سلفی ہیں لیکن امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے طرز کے ویسے نہیں جیسے آج کل عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ خود اشعری عقیدہ وغیرہ بھی پڑھے ہوئے ہیں، لیکن عمومی تدریس میں زیادہ تر وہی متون پڑھاتے ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں۔ البتہ اگر کوئی انفرادی طور پر پڑھے تو اشعری عقیدے کی کتابیں بھی ان سے پڑھی جا سکتی ہیں۔ میرے خیال میں ان کے ہاں اشعری عقیدے میں اضاء الدجنہ وغیرہ پڑھائی جاتی ہے [مثلا ہمارے شیخ اور شیخ المشائخ علامہ عرفات اسے پڑھاتے ہیں]، اور بھی بعض کتابیں ہیں۔ علماء کی اکثریت اشعریوں ہی کی ہے لیکن وہ محققین ہیں۔
اس کے بعد مزید اعلیٰ اور انتخابی درجے کے مقررات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آدمی صرف یہ ابتدائی و متوسط درجے ہی اچھی طرح، محنت اور فہم کے ساتھ پڑھ لے، تو جس درجے کا عالم بن سکتا ہے، اس معیار کا ہمارے ہاں کم ہی ملے گا۔
البتہ وہاں عموماً فقہِ حنفی نہیں پڑھائی جاتی، اس لیے وہ ہمیں اپنے ہاں سے ہی حاصل کرنی پڑتی ہے۔
(البتہ ہمارے شیخ ددو ہدایہ وغیرہ پڑے ہوئے ہیں ان کے دادا پڑھاتے تھے)
مزید یہ کہ وہاں بعض بڑے مشایخ جیسے شیخ ددو کے قائم کردہ “مرکز تکوین العلماء” میں ایک نیا امتزاجی نظام بھی اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں مدرسوں سے فارغ ہونے والے طلبہ کو مزید تخصص کے لیے لیا جاتا ہے، اور پھر تقریباً 17 سال تک ان کی مزید علمی تربیت جاری رہتی ہے۔ اس میں جدید مناہج کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن پرانا محضرہ نظام اور اس کا طریقہ برقرار عموما مورتانیا میں برقرار ہے۔
ان کے ہاں محاضر اور تدریس کا ایک بڑا حصہ صحرائی ماحول میں ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ لوگ خانہ بدوش ہوتے تھے، ایک جگہ سے دوسری جگہ اونٹوں پر سفر کرتے ہوئے بھی تعلیم و تدریس جاری رکھتے تھے۔ یہ ان کے علمی طرزِ زندگی کی ایک عجیب اور منفرد جہت ہے (الجزیرہ پر ڈاکٹر مختار شنقیطی کے ساتھ ایک لمبا مکالمہ آیا تھا اسمیں ایسے عجیب و غریب واقعات ہیں کہ آدمی ششدر رہ جائے)۔
آپ کو پتا ہے ہمارے شیخ ددو اور ہمارے شیخ محمود شنقیطی کو تقریبا تمام علوم اسلامیہ ازبر یاد ہیں۔ ان کو تقریباً ہزاروں جاہلی و غیر جاہلی عرب اشعار یاد ہیں۔ یعنی پوری ان لوگوں کو بخاری یاد ہے۔ قرآن مجید کے دس قرآت کے ساتھ پکے حافظ ہیں۔ اور دیکھ کے کبھی نہیں پڑھاتے۔ ہر چیز یاد ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک آدھ کو، تمام علماء کا یہی حال ہے۔
والسلام علیکم۔

